ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بجلی کے نرخوں میں فوراً اضافہ ناگزیر: شیوکمار

بجلی کے نرخوں میں فوراً اضافہ ناگزیر: شیوکمار

Wed, 08 Feb 2017 11:19:13    S.O. News Service

بنگلورو،7؍فروری(ایس او نیوز) مسلسل خشک سالی سے بدحال ریاستی عوام کو بجلی کا ایک زبردست جھٹکا دینے پر آمادہ بجلی کمپنیوں نے کرناٹکا الیکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بجلی کے نرخوں میں اضافہ کا اعلان کیا جائے اور فی یونٹ 1.48 روپے بڑھادئے جائیں۔ بجلی کی کمپنیوں کی طرف سے کمیشن کو بتایا گیا کہ ریاست میں بارش کی قلت کے سبب تمام آبی ذخائر سوکھ چکے ہیں ، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکومت فی الوقت بجلی کی خریداری 5.08 روپے فی یونٹ کے حساب سے کرکے اس کی سربراہی کررہی ہے، اسی لئے بجلی کمپنیوں کو خسارہ سے نکالنا ہو تو فوراً فی یونٹ 1.48 روپے کا اضافہ ناگزیر ہے۔ ریاستی الیکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن اس پر غور وخوض کرنے کے بعد اپنا فیصلہ لے گا۔ یہ بات آج وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار نے ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کو بتائی۔ وقفۂ سوالات میں ایم اپاجی گوڈا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ کے ای آر سی بجلی کمپنیوں کی آمدنی اور اخراجات کا جائزہ لینے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے سال بھی کمیشن کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کو منظوری دی گئی تھی، لیکن حکومت نے اسے منظور نہیں کیا ،اسی لئے اب بجلی کمپنیاں ایک یونٹ کی قیمت 1.48 روپے تک بڑھانا چاہتی ہیں۔ وزیر موصوف نے بتایاکہ ریاست میں کسانوں اور کارخانوں کو حکومت ہمہ وقت بجلی مہیا کرانے کی پابند ہے، لیکن فی الوقت کسانوں کوروزانہ سات گھنٹے اور صنعتوں کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ حالیہ دنوں میں خشک سالی کے سببب زرعی سرگرمیوں میں کمی کے نتیجہ میں بجلی کی کھپت میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ ریاست بھر میں بجلی کی مانگ 9500 میگاواٹ رہی ہے۔ لیکن زرعی شعبے میں بجلی کی کمی کے سبب اس کی مانگ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے ریاست بھر میں کسانوں کو بجلی کی ترسیل کے ساتھ 8500کروڑ روپیوں کی سبسیڈی بھی دی جاتی ہے، اوسطاً ہر کسان کو سالانہ 50تا70ہزار روپیوں کی بجلی مفت مہیا کرائی جارہی ہے۔
 


Share: